ہفتہ‬‮   18   ‬‮نومبر‬‮   2017
2

ٹرمپ نے ایسا حکم جاری کردیا کہ سن کر آپ کہیں گے امریکی صدر تو بیچارا بے بس ہے، اصل طاقت تو کسی اور کے پاس ہے


170301141317-donald-trump-0228-large-169

امریکہ نے سینکڑوں ڈرون حملوں میں بے شمار بے گناہ انسانوں کو ہی قتل نہیں کیا بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں۔ ڈرون حملوں کی صورت میں برپا کی جانے والی تباہی اور لاقانونیت پہلے بھی کچھ کم نہ تھی لیکن رہی سہی کسر نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے نے پوری کردی ہے۔ انہوں نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو مکمل اختیار دے دیا ہے کہ وہ جب چاہے اور جہاں چاہے اپنی مرضی سے ڈرون حملہ کردے، یعنی اب ڈرون حملے کے لئے سی آئی اے کو کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہو گی۔
دی انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق اب تک ڈرون حملوں کے فیصلے کا اختیار امریکی فوج کے پاس تھا، جس کی منظوری کے بعد ہی حملہ کیا جا سکتا تھا۔نئے اختیارات ملنے کے بعد سی آئی اے کی مرضی ہوگی کہ وہ دہشت گردی کے شبہ میں جہاں چاہے اور جس پر چاہے حملہ کرسکتی ہے۔
سابق صدر باراک اوباما کے دور میں سی آئی اے کو صرف یہ اجازت تھی کہ وہ دہشتگردوں کا سراغ لگائے، جس کے بعد ڈرون حملہ امریکی فوج کرتی تھی۔ اب امریکی فوج کے برعکس سی آئی اے پر یہ پابندی بھی نہیں ہے کہ وہ بتائے کہ ڈرون حملہ کہاں کیا گیا اور اس میں کتنے عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔

ٹرمپ کے نئے حکم نامہ کوبھی دھچکا, شامی شہری کے اہلخانہ پر سفری پابندی نہ لگائی جائے: امریکی عدالت
وال سٹریٹ جنرل کی ایک رپورٹ کے مطابق شام میں القاعدہ کے رہنما ابوالخیر المصری کی ہلاکت بھی سی آئی اے کو ملنے والے نئے اختیارات کے بعدایک ڈرون حملے میں ہوئی ہے۔ ڈرون حملوں کا اختیار سی آئی اے کو دئیے جانے پر بین الاقوامی حلقوں میں ایک ہنگامہ برپا ہے لیکن وائٹ ہاﺅس، امریکی محکمہ دفاع اور سی آئی اے کی جانب سے اس معاملے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آرہا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اہداف کا پتہ چلانے کا کام کسی خفیہ ایجنسی کے حوالے کیا جانا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن حملوں کا اختیار بھی خفیہ ایجنسی کو دے دینا انتہائی خطرناک اور متنازع فیصلہ ہے۔ ڈرون حملوں کی صورت میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر امریکہ کو پہلے ہی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ سابق صدر اوباما کے دور میں کل 563 حملے کئے گئے، جن میں سے اکثر پاکستان، صومالیہ اور یمن میں کئے گئے۔ بیورو آف انویسٹی گیٹو جرنلزم کی رپورٹ کے مطابق اس سے پہلے صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں صرف 57ڈرون حملے کئے گئے تھے۔
ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈرون حملوں کی پالیسی دہشتگردی کے خاتمے کی بجائے اس میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ اس پالیسی کے بعد دنیا بھر میں دہشتگرد تنظیموں کے غیر معمولی پھیلاﺅ کو اس بات کا واضح ثبوت قرار دیا جاتا ہے کہ امریکی ڈرون پالیسی دنیا میں دہشتگردی کو فروغ دے رہی ہے۔ گزشتہ سال جولائی میں امریکی حکومت نے خود تسلیم کیا کہ جن ممالک میں امریکہ جنگ نہیں لڑ رہا وہاں بھی اس کے ڈرون حملون میں 116 عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ مارے جانے والے بے گناہ شہریوں کی اصل تعداد امریکی حکومت کے بیان کردہ اعدادوشمار سے کئی گنا زیادہ ہے۔


اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


اہم خبریں

دلچسپ و عجیب

تازہ ترین ویڈیو

Copyright © 2017 Sun International . All Rights Reserved