ہفتہ‬‮   23   ستمبر‬‮   2017
2

سعودی حکومت نے روزگا ر کمانے کی خواہش مند خواتین کے لئے ایسے منصوبے کا آغاز کر دیا کہ جسے سن کر ہی ہزاروں خواتین کی بڑی مشکل حل ہو جائے گی


download (1)

سعودی عرب میں حکومت نے خواتین کے لئے گھر بیٹھے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ،2020ء تک ملک میں 1لاکھ 41ہزار آسامیاں نکالی جائیں گی ،’’ٹیلی ورک‘‘ کے نام سے شروع ہونے والے منصوبے سے معذور افراد اور خواتین گھر میں بیٹھ کر ہی منا سب روزگار حاصل کر سکیں گی۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی وزارت محنت نے خواتین اور معذور افراد کے لئے گھر بیٹھ کر روزگار کمانے کے لئے ’’ٹیلی ورک‘‘ کے نام سے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کے تحت خواتین اور معذور افراد اپنے گھروں میں ہی بیٹھ کر مناسب روز گار حاصل کر سکیں گے ۔2020ء تک اس منصوبے کو مکمل عملی جامہ پہنایا جائے گا اور 1لاکھ 41ہزار آسامیوں پر خواتین اور معذور افراد کو روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے گا ۔واضح رہے کہ ٹیلی ورک کی اصطلاح کا اطلاق ان مختلف اقسام کی ملازمتوں پر ہوتا ہے جن کے لئے کسی کمپنی کے دفتر کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ گھروں سے ہی یہ ملازمتیں انجام دی جاتی ہیں۔سعودی وزارت محنت نے اعتراف کیا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو کام کرنے میں نقل وحمل اور خاندانی ذمہ داریوں سمیت متعدد سماجی رکاوٹیں مانع ہیں۔یاد رہے کہ سعودی عرب وہ واحد ملک ہے جہاں عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی محدود تعداد میں ہیں جس کی وجہ سے نجی ڈرائیور کے اخراجات برداشت نہ کر پانے والے لوگوں کے لئے سفر کرنا قدرے مشکل ہوتا ہے۔وزارت محنت کا کہنا ہے کہ ٹیلی ورک سے سعودی عرب کے ایسے دور دراز علاقے بھی مستفید ہو سکیں گے جہاں ملازمت کا حصول بھی ایک انتہائی مشکل امر سمجھا جاتا ہے ،وزارت محنت کے اس منصوبے کے بعد خواتین کو دفتر جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ گھر بیٹھے انہیں روزگار فراہم کئے جائیں گے۔ تاہم ایک لاکھ اکتالیس ہزار ملازمتیں کیسے پیدا کی جائیں گی ، اس بارے میں وزارت نے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی ہے۔


اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


اہم خبریں

دلچسپ و عجیب

تازہ ترین ویڈیو

Copyright © 2017 Sun International . All Rights Reserved